سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ جن لاپتہ افراد کی گمشدگی میں ایجنسیوں اور پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔
یہ حکم لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کرنے والی تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران دیا۔ اس بینچ کی سربراہی جسٹس راجہ فیاض کر رہے ہیں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ سپریم کورٹ رجسٹرار کے دفتر کے ساتھ مل کر ان مقدمات کی چھان بین کریں۔
ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی گمشدگی کے متعلق قانون میں ترمیم کی جا رہی۔
تاہم بینچ کے سربراہ جسٹس راجہ فیاض نے کہا کہ قانون تو پہلے ہی سے موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔
بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارک دیتہ ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے نام پر گمشدگیوں کو جواز نہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایجنسیوں کے تمام سربراہان عدالت کو جوابدہ ہیں۔
جسٹس راجہ فیاض نے کہا کہ ایجنسیوں کے حوالے سے عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے کو سپریم کورٹ کی کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کمیشن نے جو رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے اُس کے کچھ حصوں کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں نو پیراگراف قومی سلامتی سے متعلق ہیں، اُن کو شائع نہ کیا جائے جبکہ باقی حصوں کو شائع کردیا جائے۔
عدالت نے ایڈشنل اٹارنی جنرل کی طرف سے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق نیا ٹربیونل بنانے کی تجویز مسترد کردی۔
بینچ میں شامل جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ لاپتہ ہونے والے افراد کے رشتہ داروں کو علم ہونا چاہیے کہ اُن کے پیارے کہاں پر ہیں اور اُن کے خلاف مقدمات کس بنا پر درج کیے گئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ لاپتہ افراد سے متعلق ہر کیس کی سماعت خودکرے گی اور مقدمے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے احکامات جاری کرے گی۔
No comments:
Post a Comment