سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں ذمہ داروں کے خلاف مقدمات پولیس کی مرضی سے نہیں بلکہ مدعی کی مرضی سے درج کیے جائیں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملک میں لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور بعض واقعات میں خفیہ ایجنسیوں سے متعلق ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اُن مقدماتکی ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے جس میں خفیہ ایجنسیاں اور پولیس کے اہلکار ملوث ہیں۔
جمعہ کے روز جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے لاپتہ افراد سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع بھی اس ضمن میں عدالت میں پیش ہوئے۔
سیکرٹری داخلہ چوہدری قمرالزمان نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ میں لاپتہ افراد سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے ساتھ خفیہ ایجنسیوں کے تعاون کی وجہ سے ایک سو کے قریب افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے بازیاب ہونے میں اتنی تیزی نظر نہیں آرہی جتنی تعداد میں افراد لاپتہ ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جن مقدمات میں خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اُن میں ذمہ داروں کا تعین کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے گیارہ قیدیوں سے متعلق خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار لاعلمی کا اظہار کرتے رہے لیکن جب سپریم کورٹ نے سختی دیکھائی تو ان ایجنسیوں کے اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ یہ قیدی اُن کی تحویل میں ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں جس کے بعد بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت تھائی لینڈ میں ایک سو کے قریب پاکستانی قیدی ہیں جن میں سے دس واپس آگئے ہیں اور ان افراد کو بھی لاپتہ افراد میں شامل کیا جارہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک اور لاپتہ ہونے والے شخص حسن شرجیل کے شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ افراد راولپنڈی میں پریڈ لین اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا جو افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اُن کے خلاف مقدمات درج کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے لیکن ان افراد کے رشتہ داروں کو یہ تو معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کے پیارے کہاں پر ہیں۔
بینچ میں شامل جسٹس راجہ فیاض کا کہنا تھا کہ عدالت لاپتہ افراد کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے اور تمام اداروں کو قانون کی پاسداری کرنا ہوگی۔
جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان مقدمات کو روزانہ کی بنیاد پر سُنا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ سنہ دوہزار سات میں لال مسجد آپریشن کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق بھی درخواستوں کی سماعت کی جائے گی اور پورا دن ان درخواستوں کے سماعت کے لیے مختص کیا جائے گا۔
ان درخواستوں کی سماعت تین فروری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔ سماعت کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے رشتہ دار بڑی تعداد میں موجود تھے۔
No comments:
Post a Comment